57

“سود” اللہ سے کھلی جنگ

#متاع_نظر
“سود” اللہ سے کھلی جنگ
معاشرتی برائیاں چرس افیون ہیروئن،ان سے ہر ایک کو نفرت ہے ہونی بھی چاہیے اور کرنے والا ہر مکتب فکر کا ہوتا ہے جن میں سوسائٹی کے وہ مہذب بھی شامل جو دیکھنے میں بڑے دلکش باتوں کے دھنی سیاسی بھی سماجی بھی کبھی کبھی دل چاہا تو مدد کر کے سخی بھی کہلانے والے لیکن قارئین آج ایسی نبض چھیڑیں گے جو چھیڑنا میں اپنا بھی فرض سمجھتا ہوں اور امید یہ بھی رکھتا ہوں کہ میرے دوست و احباب بھی بار بار چھیڑیں باحیثیت مسلمان کیونکہ آج ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ سچی بات کہتے ہم کتراتے ہیں اور ہر وہ برائی جس کو سامنے لانا ہمارا فرض ہے اُس سے ہم نظریں چرا کر زندگی گزار لیتے ہیں لیکن ہمیں شاید یہ احساس نہیں کہ برائی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے سے ہم اللہ کی نظر سے چھپ نہیں سکتے قارئین موضوع ہے سود جو اللہ اور اُسکے رسول کے ساتھ جنگ ہے ۔میں سچ بتاوں مجھے بہت سارے بزرگوں نوجوانو کو بیماری میں دیکھنے کا کبھی کبھار موقع ملتا ہے اور ویسے بھی معاشرے کے اندر اُن لوگوں کو مریض پایا جو دولت مند زیادہ ہیں ان میں سے وہ لوگ بھی جنکا مجھے پتہ ہے کہ ان کے پیسے ڈاکخانے یا بنک میں منافع کے لیے پڑے ہیں اور یہ خود بھی اور اپنے بچوں کووہ کمائی کھلا رہے ہیں جس سے رب کائنات اور اُس کے رسول نے منع بھی فرمایا اور یہ کہا کہ سود کھانے والا سمجھ لیں اللہ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے اور جب کوئی اللہ کا بنایا ہوا اللہ کے ساتھ جانتے ہوئے بھی جنگ کرنے کے لیے تیار بلکہ جنگ لڑ رہا ہو اُسکا اندازہ کر لیں کہ وہ اس جنگ سے کیا سمیٹے گا ذلت رسوائی بیماری گھروں میں آفتیں رشتوں میں دراڑیں ذہنی طور پر مفلوج تو کیوں نہ ان لوگوں کو سدھارنے کی وہ ہر شخص کوشش کرے جو سود کھانے جیسی لعنت سے پاک ہے ۔ان لوگوں کو یا ان کے قریبی لوگوں کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ اس دنیا کی پر پاور سے تو جنگ کرنے میں تمھیں خوف آتا ہے تمھیں ہزراوں حکمت عملیاں ترتیب دینا پڑتی ہیں تم ایک دوسرے کو سپر پاور سے ڈراتے ہو جو پوری دنیا اللہ پاک کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں تو پھر اُس مالک کاٸنات کے خلاف سود کھا کر اُس سے جنگ کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہو کیا یہ جنگ کہیں تم جیت کر جا سکتے ہو نعوذ باللہ نہیں قارئین وہ رب ہماری زندگی کے اندرسود خوری کی وجہ سے ایسی ایسی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے کہ ہم سے سمجھ بھی چھین لیتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں ہم نے بروقت علاج سٹارٹ نہیں کروایا ہم خوراک ناقص کھا رہے ہیں ہم نے احتیاط نہیں کی ہم اسی چکر میں رہتے ہیں اور ہماری دنیا سے بھی سکون چلا جاتا ہے اور آخرت میں تو خیر اس جنگجو کو خوب معلومات ہو جاٸےگی کہ و جاننے کے باوجود کیوں اللہ اور اُسکے رسول کے ساتھ جنگ جاری رکھے ہوئے تھا قارئین یہاں پر میں یہ کہوں گا کہ ہروہ شخص جسکی نظر سے یہ تحریر گزرے گی وہ لازمی مولانا حضرات کی توجہ اس جانب مبذول کروائے گا کہ جناب مولانا صاحب ایک تو آپ نے دین کاپورا ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے کسی دوسرے کو دین کی بات کہتے نہ آپ سُن سکتے ہیں اور نہ سُن کر تعریف کر سکتے ہیں تو آپ کم ازکم اس موضوع کو تو جمعہ والے دن دس منٹ کا دورانیہ دے دیں کیونکہ اسی سود کی وجہ سے تو اللہ پاک ہم سے ناراض بھی اور معاشرے کے اندر انتشار بھی، بے چینی بھی، گھروں میں جھگڑے بھی، نت نٸی بیماریاں بھی، اولاد کا والدین کی بات نہ ماننا بھی، گھروں سے برکت کا اٹھ جانا شامل ہے آپ اس موضوع کو اپنی زندگی کا مقصد بھی بنا لیں اور اسی پرسحر حاصل گفتگو بھی کریں تاکہ یہ امراء کا طبقہ بنکوں ڈاکخانوں سےپیسے نکال کر کوئی لیگل کام کرکے دوگنا جائز انداز میں پیسے کما سکے آج نوجوان سوشل میڈیا پر چٹکلے اور دیگر ٹوٹکے تو چھوڑتے ہیں لیکن اس دور کے نوجوان کو یہ فکر نہ ہوئی کہ ہماری تخلیق کا مقصد کیا تھا ہمیں تو اس لیے بنایا گیاتھا کہ ہم لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں لوگوں کو بری باتوں سے روکنے کی کوشش کریں اور اچھی باتوں کا درس دیں ہم بھی سرعام کہیں نہ کہیں خرابیوں کی نشاندہی کریں لیکن آج کا نوجوان صرف ہنسی مذاق کو زندگی کا مقصد بنا کر بیٹھ گیا ہے جنہوں نے امت کو ایک ہونے کا درس دینا تھا وہ تقسیم در تقسیم کرنے کا ٹھیکہ نبھا رہے ہیں جنھوں نے ان بنیادی سود کے نقصانات سے آگا ہ کرنا تھا وہ لچھے دار تقریروں سے نظام چلانے لگے میں تمام اپنے قارئین سے کہوں گا کہ اس جانب بھی توجہ دو تاکہ کل میدان محشر اُس رب کے سامنے سرخرو ہو سکو جس کے سامنے ہم نے پیش ہونا ہے ۔ اس لیے کوشش کریں دن میں ایک آدھی پوسٹ اس سود کے خلاف بھی کر لیا کریں یہ سمجھ کر کہ مسلمانیت کے ناطے یہ ہمارا فرض بنتا ہے۔
والسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں